شیخ محمد امان الجامي رحمہ اللہ (١٤١٦ھ) فرماتے ہیں:
"بناؤ سنگھار کر کے بے پردہ گھومنے پھرنے والی عورت کی مثال ایک ایسے لذیذ اور عمدہ کھانے کی سی ہے، جسے بنانے والے نے اپنی پوری مہارت اور محنت سے تیار کیا ہو، مگر پھر وہ اسے لے جا کر کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر کے پاس بغیر ڈھکن کے کھلا چھوڑ دے، چنانچہ ہر طرف سے کیڑے مکوڑے اس کی خوشبو پا کر اس پر ٹوٹ پڑیں، مکھیاں اس کے گرد منڈلانے اور اس کے اندر گرنے لگیں، جبکہ راہگیر اسے دیکھ کر شدید کراہت اور گھن محسوس کریں، پھر بالآخر وہ کھانا ان کتوں کا نوالہ بن جائے جو کیڑے مکوڑوں کو ہٹا کر اس پر غلبہ پا لیں، اور لامحالہ کتوں نے غالب آنا ہی ہے، بالکل یہی مثال ان بے پردہ اور بے جا گھومنے پھرنے والی عورتوں کی ہے.
لہٰذا ایک مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات اور عزت و آبرو کو اس ذلت آمیز اور گرے ہوئے مقام سے بلند رکھے، نیز عفت و حیا کی چادر اسی طرح اوڑھے رکھے جیسا کہ اس کے رب نے اسے حکم دیا ہے، کیونکہ یہی عمل اس کے لئے اللہ کی بارگاہ اور معاشرے کی نگاہ میں سراسر خیر اور بھلائی کا باعث ہے".
📗[مجموع رسائل الجامي في العقيدة والسنة (ص ٣٤٦)]
ترجمانی : ام محمد خوشنما مصلح الدین





