اے خواہشِ نفس کے سمندر میں ڈوبنے والے، جسے تیرنا بھی نہیں آتا!کتنی ہی بار تیرے گرد نصیحت کی کشتیاں چکر لگاتی ہیں اور ان کے سوار تجھے پکارتے ہیں:
﴿ارْكَبْ مَعَنَا﴾
’"ہمارے ساتھ سوار ہو جا"
مگر تو پھر بھی غفلت کے بھنور میں ڈوبا ہوا ہے،
تعجب ہے!جوں جوں تیری عمر بڑھتی جاتی ہے، تیری عقل و بصیرت گھٹتی جاتی ہے،،
تو اس خیمۂ قیام کو ایک مضبوط میخ سے باندھنے میں لگا ہوا ہے،
حالانکہ کوچ کا بگل بج چکا ہے!جس نے گزرے ہوئے ایام سے عبرت نہ لی، اسے ملامت بھی باز نہیں لا سکتی،
راہ طویل ہے، مگر زادِ راہ نہیں، اور جب بھی زادِ راہ میسر ہوتا ہے، تیرا عمل اور زیادہ کوتاہی میں گزر جاتا ہے،
ابن الجوزی رحمہ اللہ،
صبا نجد



