تائیوان کی حکومت آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں 16 فیصد اضافے کی تجویز پیش کرنے والی ہے، جس کے بعد ملک کا سالانہ دفاعی بجٹ پہلی مرتبہ ایک ٹریلین تائیوان ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ سرکاری سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق مجوزہ دفاعی بجٹ ایک اعشاریہ ایک ٹریلین تائیوانی ڈالر یعنی تقریباً 31 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہو گا۔
چین سے بڑھتی کشیدگی، تائیوان کے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے، جب چین گزشتہ چند برسوں کے دوران تائیوان پر فوجی اور سیاسی دباؤ مسلسل بڑھاتا آ رہا ہے۔ بیجنگ جمہوری نظام کے تحت چلنے والے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کے لیے طاقت کے استعمال کا امکان بھی مسترد نہیں کرتا۔
دوسری جانب امریکہ بھی تائیوان پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی اخراجات میں اضافے پر زور دیتا رہا ہے۔ صدر لائی چنگ تے دفاعی بجٹ بڑھانے کے حامی ہیں جبکہ ان کی حکومت نے مسلح افواج کی جدید کاری کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔
مجوزہ بجٹ بیس اگست کو پیش کیا جائے گا اور اس میں فوج کے علاوہ کوسٹ گارڈز، سابق فوجیوں اور خصوصی دفاعی منصوبوں کے اخراجات بھی شامل ہوں گے۔ مجموعی دفاعی اخراجات تائیوان کی مجموعی قومی پیداوار، یعنی جی ڈی پی کے تین فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ حتمی اعداد و شمار کابینہ کے آخری اجلاس کے بعد سامنے آئیں گے۔
Forwarded fromFayaz Khan

dw.com
چین سے بڑھتی کشیدگی، تائیوان کے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ
2August 10, 2026 926 2