یو این رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2023 سے ایران اور پاکستان سے تقریباً (6… — The Imam 2.0 — TG.ME

Forwarded fromSTStrider
یو این رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2023 سے ایران اور پاکستان سے تقریباً (6 ملین) 60 لاکھ افغانوں کی واپس ریکاڈ کی جا چکی ہے۔ پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور سرحدی کشیدگی میں اضافے کے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور جبری واپسی میں تیزی آئی، جبکہ ایران میں اسرائیل، ایران جنگ کے دوران سکیورٹی خدشات اور غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث افغانوں کی واپسی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایران اور پاکستان سے مزید لاکھوں افغانوں کی واپسی متوقع ہے، جن میں ایران سے تقریباً 17 لاکھ اور پاکستان سے 11 لاکھ مزید واپسیوں کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ صرف 2026 کے پہلے سات ماہ میں ایران اور پاکستان سے تقریباً 10.82 لاکھ افغان واپس گئے، جن میں تقریباً 4.13 لاکھ کو باقاعدہ طور پر ڈی پورٹ کیا گیا۔

یہ صورتحال افغانستان کے لیے ایک سنگین انسانی المیہ بن رہی ہے۔ لاکھوں افراد ایسے ملک میں واپس پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے ہی روزگار، کاروبار، رہائش، خوراک، صحت اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ بڑی تعداد میں واپس آنے والے خاندان نہ صرف بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ اپنے کاروبار، آمدنی اور معاشی تحفظ سے بھی محروم ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک کی بڑھتی ہوئی کمی ان کی مشکلات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

اس المیے کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 45 ممالک ایسے ہیں جن کی پوری آبادی 60 لاکھ سے کم ہے۔ یعنی چند برسوں کے دوران واپس آنے والے افغانوں کی تعداد ایک پورے ملک کی آبادی کے برابر ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جبری واپسی روکنے اور افغانوں کو انسانی تحفظ فراہم کرنے کی مسلسل اپیلوں کے باوجود پاکستان نے ملک بدری کا عمل مکمل طور پر معطل نہیں کیا، تاہم مختلف مواقع پر افغانوں کے لیے مہلت اور قانونی قیام کی مدت میں توسیع کی۔ نومبر 2023 میں PoR کارڈز کی مدت دسمبر تک، جنوری 2024 میں مارچ تک، جولائی 2024 میں جون 2025 تک، جبکہ اگست 2025 میں مزید ایک ماہ کی مہلت دی گئی۔ 2026 میں بھی پاکستان نے عمومی طور پر ملک بدری کا عمل معطل نہیں کیا؛ البتہ مختلف اوقات میں مخصوص دستاویز رکھنے والے افغانوں کے لیے قیام کی مدت یا واپسی کی مہلت بڑھائی گئی۔ مجموعی طوع پر دیکھیں تو یہ بحران اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک سے بڑے پیمانے پر واپسی نے افغانستان کے پہلے سے کمزور انسانی اور معاشی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے 2026 میں مزید تقریباً 27 لاکھ افغانوں کی ممکنہ واپسی سے نمٹنے کے لیے 529 ملین ڈالر کے Response Plan کا آغاز کیا ہے۔

ان حالات میں علاقائی اور عالمی پالیسی سازوں کو اس بحران کو محض امیگریشن یا سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ سرحدی سلامتی اور ریاستوں کے قانونی حقوق اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب بڑے پیمانے پر واپسی لاکھوں انسانوں کو بے روزگاری، بھوک، بے گھری اور بنیادی سہولیات کے فقدان سے دوچار کر دے تو اس کے انسانی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

افسوس ہے کہ ان 60 لاکھ واپسیوں کو صرف اعداد و شمار میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ان اعداد کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی اجڑتی ہوئی زندگیاں، ختم ہوتے کاروبار، انتہائی محدود آمدنی اور ایک غیر یقینی مستقبل چھپا ہے۔

سورس: UNHCR Data Portal، UN Afghanistan، BBC
😱4😭3❤1
September 2, 2026 513 4 1