وہ آوازیں جو یہ کہتی ہیں: ’’یہ غیر مسلم کارکن جو غز۔ ہ کی حمایت کر رہے ہیں، اس غفلت زدہ مسلم امت سے بہتر ہیں‘‘ — اب یہ باتیں عمومی انداز میں اور بلند آواز میں کی جا رہی ہیں۔
ایسی باتوں کا بار بار دہرانا امتِ محمد ﷺ کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ہم اپنی فضیلت کھو چکے ہیں، گویا ہماری امت دوسروں سے کمتر ہو گئی ہے، اور اسلام کا ہونا یا نہ ہونا کسی شخص کی اخلاقی قدر و قیمت پر کوئی اثر نہیں رکھتا۔ یہ طرزِ فکر درحقیقت ایک غیر منصفانہ عمومی تبصرہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے کہا: لوگ برباد ہو گئے، وہ خود سب سے زیادہ برباد ہے۔"
اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ جو اسلام سے نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اپنی امت کے دکھ درد سے لاتعلق ہیں اور صرف اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ یہ لوگ سیلاب میں بہتے جھاگ کی مانند ہیں، جنہیں بہاؤ بہا لے جاتا ہے۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ جو امتِ محمد ﷺ سے جھوٹا تعلق ظاہر کرتے ہیں، دراصل اپنے بھائیوں اور بہنوں پر ظلم و ستم میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ امت سے لاتعلق ہیں، اور امت ان سے بری الذمہ ہے۔
لیکن دوسری طرف، یہ سراسر ظلم ہے کہ ہم ان عظیم نیکیوں کو نظر انداز کریں، جنہیں منظم طریقے سے دبایا، خاموش کیا اور ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
امت میں کتنے ایسے زندہ دل لوگ ہیں، جو غز۔ ہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، قربانیاں دیں، قید کیے گئے، ذلتیں برداشت کیں، اور طویل سزائیں بھگت رہے ہیں — جس سے ان کے بچوں، بیویوں اور والدین کو شدید تکالیف پہنچیں؟
کتنے لوگ ہیں جنہوں نے سڑکوں پر مظاہرے کیے، آواز بلند کی، اور کشادہ دلی سے عطیات دیے — اتنے عطیات کہ وہ نہ صرف غز۔ ہ بلکہ پورے ملک کی مدد کر سکتے ہیں؟
کتنے ڈاکٹر، فلاحی کارکن، اور صحافی ہیں جنہوں نے اپنی آسان زندگی چھوڑ کر اپنی جان خطرے میں ڈالی، تاکہ اپنے بھائیوں کو طبی امداد فراہم کریں یا ان کے دکھ دنیا کے سامنے لائیں؟
کتنے علماء اور داعیان تھے جنہیں عرب انقلابات کے بعد قید کر دیا گیا، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں سلاخوں کے پیچھے ہیں — جنہیں کبھی لوگ یاد کرتے تھے، اب سب بھول چکے، سوائے چند ایک کے؟ لیکن ان کی قربانیاں اور نیک اثرات آج بھی باقی ہیں۔
کتنے لوگ ہیں جو صبح و شام امت کے حال پر غم میں مبتلا ہیں، اور سچّی نیت رکھتے ہیں کہ کچھ قربانی دے سکیں — کاش کوئی راستہ ہو؟
یقیناً، امت سے مایوسی اور دوسروں کی تعریف بعض اوقات سچے درد اور ٹوٹے دل سے جنم لیتی ہے، لیکن یہ درد ہمیں حقائق کو بگاڑنے، اپنی امت کو گالیاں دینے، یا اس کی خدا داد قدر و منزلت کو کم تر سمجھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
ہم ان غیر مسلم کارکنوں کی قدر کرتے ہیں جو ہمارے اہل غز۔ ہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں ہدایت دے اور ان کے دلوں کو اسلام کے لیے کھول دے — کیونکہ ہم ان کے لیے بھلائی چاہتے ہیں، جس طرح انہوں نے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھلائی کی ہے۔
اور ہمیں، بحیثیت مسلمان، ہر ممکن ذریعہ اختیار کر کے اپنے مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہنا ہے — بغیر کسی مایوسی میں پڑے یا خود پر ایسی تباہ کن تنقید کیے جو ہمیں مزید کمزور کر دے۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ جو بھی ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے، اللہ دنیا و آخرت میں اس سے عدل کا معاملہ کرے۔ اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان کی ایسی مدد کی توفیق دے جو اس کی رضا کا باعث ہو۔
ڈاکٹر ایاد القنیبی کی تحریر سے ترجمہ
@doamuslimsurdu










