کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے...................
ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے). خدمت امام ع میں آتی ہیں اور اسی حجاب اسلامی کے اندر رہ کر ایک سوال کرتی ہیں کہ:
اے فرزند رسول ص ! مجھے ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ جس کے لیے میں آپ تک آئی ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں اور کافی طویل عرصے سے میں بیمار ہوں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے.
میں نے ہر طرح سے علاج کراکے دیکھ لیا مگر کسی طبیب اور ڈاکٹر کی دوا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا.بہرحال کوشش کرنا تو مومن کا کام ہے اور جب مجھے مایوسی ہوگئی تو میں صبر کرکے بیٹھی رہی کہ شاہد اللہ اس طرح سے میرا امتحان لے رہا ہے.تکلیف بھی بڑھتی جارہی ہے اذیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انسان کرے تو کیا کرے؟مگر فرزند رسول ایک عجیب بات جسے میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ جیسی بیماری مجھے ہے ایسی ہی بیماری شہر مدینہ میں اور بہت سے لوگوں کوہوئی اور وہی ڈاکٹر اور طبیب جن کے پاس میں اپنے علاج کے لیے گئی انھوں نے ہی اُن بیماروں کا علاج کیا.بیماری ایک,طبیب بھی وہی,اس طبیب کی دواؤں سے باقی سب کو صحت ملی.
باقی سب ٹھیک ہوگئے لیکن وہی طبیب,میں ان سے رجوع کررہی ہوں تو نہ صرف یہ کہ بیماری ختم نہیں ہورہی بلکہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.
مولا میں گھبرا گئی اور میں نے اپنے طبیبوں سے ایک بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی بیماری دوسروں کو ہے,دوسرے لوگوں کے لیے تو تم صحیح دوا دے رہے ہو اور اس کا علاج ہوتا جارہا ہے اور وہی بیماری مجھے ہے تو تمہاری دوا فائدہ نہیں کررہی ہے طبیبوں نے ایک مرتبہ جواب دیا اور کہا کہ ہمارے پاس اس بیماری کافقط ایک علاج ہے اور ہمارے پاس اس کا کوئی اور علاج نہیں ہے.
لیکن کیونکہ ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کتنی نیک,مقدس اور پرہیزگار خاتون ہیں,اس لیے وہ آپ کو ہم نہیں بتا پارہے.طبیبوں نے کہا کہ اس کا علاج فی الحال ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ شراب.لیکن ہم آپ کوکیسے بتائیں کہ آپ شراب پیجئے؟اس لیے ہم خاموش رہے.ہم چپ رہے,دیکھتے رہے لیکن کیا کریں.آج آپ نے خود آکے پوچھ لیا تو آپ کی بیماری کا علاج فقط شراب ہے.
ابوبصیر کہتے ہیں کہ یہ خاتون امام ع سے یہ سوال کرتی ہے کہ فرزند رسول ص! اب اتنا بتا دیجیئے کہ جب سارے طبیبوں نے یہی کہا.سب نے مل کر ایک ہی بات کہی تو مولا میں آپ کے پاس آگئی.
آپ ع یہ فرمائیے کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟
ابو بصیر کہتے ہیں امام ع نے اس خاتون سے ایک سوال کیا.کہ اے ام خالد! سارے مدینے کے ڈاکٹر(طبیب) کہہ رہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا علاج سوائے شراب کے اور کوئی نہیں ہے تو آخر تو میرے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیوں آئی؟
ایک مرتبہ انتہائی حیرت کے عالم میں وہ مومنہ کہتی ہیں کہ مولا! میں نے اپنا امام آپ کو مانا,ان ڈاکٹروں کو نہیں مانا.جب میں نے آپ کو اپنا امام مانا تو اب میرا فریضہ ہے کہ زندگی کا جو کام ہے سب سے پہلے آپ سے آکر پوچھوں کہ آپ کیا ہدایت کرتے ہیں؟مولا میں تو فقط یہ چاہتی ہوں کہ میدان قیامت میں جب میرا نامہ اعمال کھولا جائے گا اور میرے ایک ایک عمل کے بارے میں مجھ سے سوال ہوگا.یہ کام کیوں کیا؟یہ کام کیوں کیا؟تو فقط ایک جواب ہو کہ میرے امام نے حکم دیا تھا.میرے آقا اور مولا نے اجازت دی تھی.
ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے چھٹے امام ع اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور مجھے دیکھ کرکہا اے ابوبصیر! کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے.
(کربلا امام زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں,ص,١٢٦,١٣١)