ہم تو عوام ہیں اور آپ!
میرے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے والد محترم سیدی رئیس المتکلمین علیہ الرحمہ نے عوام کے افادہ کے لیے ایک کتاب تصنیف فرمائی، جس کا اردو نام میلاد وقیام ہے. دوران مطالعہ ایک مقام پر پہنچ کر فقیر ٹھہر گیا اور دیر تک سوچتا رہا کہ سیدی اعلیٰ حضرت کے زمانے کی عوام کس قدر اردو داں اور علمی اصطلاحات سے آشنا تھی کہ منطق کی وہ اصطلاحات، جنہیں آج کے خواص کہلانے والے بھی بسا اوقات بمشکل سمجھ پاتے ہیں، اس زمانے کی عوام کے لیے قابل فہم تھیں!
آپ بھی یہ اقتباس پڑھیے، لطف لیجیے، اور ممکن ہو تو اپنے بارے میں فیصلہ کیجیے کہ آپ کا شمار عوام میں ہوتا ہے یا پھر.... فقیر کا جواب یہ ہے کہ بھئی ہم تو عوام میں سے ہیں...
سیدی رئيس المتکلمین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
استدلال بدلالة النص وبعلتِ منصوصہ، اور اجرائے حکمِ کلی جزئیات پر، اور استخراجِ جزئیات بدلالتِ مساوات، اور استناد بعمومِ احادیث وآیات، اور فہمِ احکامِ صریحہ عبارة النص واشارة النص سے، اور تحصیلِ نتائج مقدماتِ منصوصہ اور بدیہیاتِ شرعیہ سے برعایتِ قیاس اقترانی واستثنائی مخصوص بمجتہدین نہیں، علمائے مقلدین میں قرنا فقرنا بلا نکیر جاری ہے، بلکہ استنباط اصولِ مجتہد سے یا مطابق اصولِ مجتہد کے دلائل شرع سے جن احکام میں مجتہد سے نص نہیں، یا واسطے تائید مجتہد کے شائع اور رائج. (صـ٥٩)
طارق محمود رضوی


