مرد محنتی ہیں، لیکن کیا ہم ان کی محنت کو سراہتے ہیں؟
مرد اکثر اپنی پریشانیاں، تھکن اور ذمہ داریوں کا بوجھ خاموشی سے اٹھاتے رہتے ہیں۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی ضروریات، والدین کی ذمہ داریاں اور مستقبل کی فکر—بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جس کا وہ اظہار نہیں کر پاتے۔
کبھی وہ سارا دن محنت کرکے گھر آتے ہیں، لیکن گھر میں ان کا استقبال شکایت سے ہوتا ہے:
"یہ بھی نہیں لائے؟"
"آپ دوسروں کے شوہروں جیسے کیوں نہیں؟"
"آپ میرے لیے کرتے ہی کیا ہیں؟"
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر انسان کو صرف اس کی کمی یاد دلانے کی ضرورت ہے، یا اس کی کوشش کو بھی دیکھا جانا چاہیے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ﴾
"اور کہہ دیجیے: عمل کرو، اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا۔"
📖 سورۃ التوبہ: 105
اگر اللہ تعالیٰ بندے کے عمل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی ایک دوسرے کی کوشش اور محنت کو دیکھنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔"
(سنن ابی داؤد، 4811؛ جامع ترمذی، 1954)
تو گھر میں شوہر، باپ، بھائی یا بیٹے کی جائز محنت کو سراہنا بھی شکر کے رویے کا حصہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد جو بھی کرے اسے ہمیشہ درست کہا جائے، یا بیوی اپنی جائز ضروریات اور تکالیف کا اظہار نہ کرے۔ اصلاح اپنی جگہ، لیکن ناشکری اور مسلسل تنقید اپنی جگہ۔
اگر شوہر اپنی استطاعت کے مطابق محنت کر رہا ہے تو کبھی اسے یہ بھی کہہ دیں:
"اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ ہمارے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔"
یقین کریں، بعض اوقات چند محبت بھرے الفاظ انسان کی پوری تھکن اتار دیتے ہیں۔
اور مردوں کے لیے بھی سبق ہے:
محنت کرنا عظیم ذمہ داری ہے، لیکن صرف رزق کمانا ہی کافی نہیں۔ بیوی بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی، وقت دینا، ان کی ضروریات سمجھنا اور ان کی محبت و جذبات کی قدر کرنا بھی ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے۔"
(جامع ترمذی، 3895)
لہٰذا گھر کو مقابلے کی جگہ نہ بنائیں کہ "میں زیادہ کرتا ہوں" یا "تم کچھ نہیں کرتیں"۔
بلکہ دونوں ایک دوسرے کی محنت دیکھیں، ایک دوسرے کا شکریہ ادا کریں، کمی ہو تو حکمت سے سمجھائیں اور نعمت ہو تو الحمدللہ کہیں۔
بیوی شوہر کی محنت کو محسوس کرے،
شوہر بیوی کی محنت کو محسوس کرے،
اولاد والدین کی قربانیوں کو سمجھے۔
کیونکہ گھر صرف پیسوں سے نہیں چلتا، قدر، شکر، محبت اور باہمی تعاون سے چلتا ہے۔
کیا ہم اپنے گھر والوں کی صرف کمی دیکھتے ہیں، یا ان کی خاموش محنت اور قربانیوں کو بھی محسوس کرکے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں؟