اہم نکات: فتویٰ دارالعلوم دیوبند: خواتین کا کسی مرد شیخ سے اصلاحی تعلق قائم رکھنے کے شرعی حدود و قیود (1) غیر محرم لڑکیوں کا پیر سے ملنے کے لیے بغیر محرم کے سفر کر کے آنا، یا غیر محرم مرد کے ساتھ سفر کرنا، پھر مرید عورتوں کا پیر کے ساتھ بغیر کسی پردے کے بے محابا بیٹھنا اور گفتگو کرنا؛ یہ سب شریعت کے خلاف امور ہیں، ان کا موجب گناہ اور خلافِ شرع ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (۲) ویڈیو میں بھی تصویر کشی پائی جاتی ہے، جو کہ ناجائز و حرام ہے؛ لہٰذا بیان میں اگر خواتین پردے میں ہوں، اور مردوں کی نشست الگ ہو، تو بقدرِ ضرورت صرف لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنا چاہیے، ویڈیو کے استعمال سے احتراز ضروری ہے۔ (۳) جو عورتیں اور لڑکیاں اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کے لیے، اور دین سیکھنے کی نیت سے کسی شیخ سے تعلق قائم کریں، وہ اس تعلق سے درج ذیل باتیں ملحوظ رکھیں۔ (الف) ایسے شیخ کا انتخاب کیا جائے جو پابندِ شرع اور متبعِ سنت ہو، گناہوں سے مجتنب ہو، مردوں کو اس کے پاس بیٹھنے سے دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو، اور آخرت کی فکر اور اس کا رجحان دل میں بیٹھے۔ (ب) اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ شیخ سے جو مراسلت کرے یا میسج بھیجے، وہ اپنے شوہر، یا کسی محرم؛ بھائی یا والد کو دکھائے۔ (ج) پیر کے پاس کبھی تنہائی میں اکیلی عورت یا چند عورتیں مل کر ملاقات کے لیے نہ جائیں۔ (د) اور اپنے پیر کے سامنے نہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرے، اور نہ ہی کبھی اس کے سامنے بے پردہ آئے۔ (ہ) ہدایات و معمولات کے بارے میں جو کچھ بھی مشورہ لینا ہو، کسی محرم کے واسطے سے یا تحریر کے ذریعے دور ہی سے حاصل کرے۔ (و) خود بھی آخرت کی فکر رکھے، اور احکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کا اہتمام کرے۔
اہم نکات: فتویٰ دارالعلوم دیوبند: خواتین کا کسی مرد شیخ سے اصلاحی… — Scholars Of Kashmir - Ahlus Sunnah Media Forum — TG.ME
Forwarded fromمشربِ حکیم الامتؒ | Mashrab-e-Hakeemul Ummat
August 23, 2026 96