اب اس مقدمہ کے بعد یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر شریف تو بلا اختلاف بعینہ… — Scholars Of Kashmir - Ahlus Sunnah Media Forum — TG.ME

’’اب اس مقدمہ کے بعد یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر شریف تو بلا اختلاف بعینہ باقی ہے اس میں کبھی کسی کو بھی شبہ نہیں ہوسکتا اور یوم الولادت اور یوم المعراج و یوم البعثت وغیرہ یقینا باقی نہیں کیونکہ زمانہ غیر قار ہے اور وہ دن جس میں حضور کی ولادت ہوئی تھی اب یقینا نہیںلوٹتا بلکہ اس کا مثل عود کرتا ہے ایک مقدمہ یہ ہوا۔ اس کے بعد یہ سمجھو کہ جب حضور نے قبر کو عید بنانے سے منع فرمادیا اور اس کا عید بنانا حرام ہوگیا جوکہ یقینا باقی ہے تو اب پیروں کو عید بنانا جوکہ بعینہ باقی نہیں کیونکر جائز ہوسکتا ہے میرے نزدیک تو اس حدیث سے عید میلاد کی صراحۃً نفی ہوتی ہے اب بھی کسی کو اس حرمت میں شک ہو تو وہ جانے اور اس کا کام جانے ‘‘۔ (خطبات حکیم الامت ، ج۵،ص۳۱۵) ایک جگہ مولود کو بدعت محرمہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’احداث فی الدین اور شے ہے اور احداث للدین اور شے ہے یعنی ایک تو یہ صورت ہے کہ نئی بات کو دین میں داخل کیا جاوے جیسے مولود ،فاتحہ وغیرہ ‘‘۔ (ملفوظات ،ج۲۱،ص۳۴۶) اس ساری تفصیل کے بعد بھی ان کے پرانے ملفوظات و اقوال کو پیش کرنا یا انہیں محافل میلاد خصوصا مروجہ خرافات میلاد کا قائل قرار دینا پرلے درجے کی خیانت اور دھوکہ دہی ہے۔ فریق مخالف کا اقرار کہ حضرت تھانویؒ جواز میلاد سے رجوع کرچکے اس ساری تفصیل کے بعد بھی اگر فریق مخالف کے دل کی تسلی نہیں ہوتی تو ہم خود فریق مخالف کے شیخ الاسلام مولانا ابو الحسن زید فاروقی کا حوالہ نقل کردیتے ہیں ۔فاروقی صاحب لکھتے ہیں: ’’مصلح کی یہ شان ہوتی ہے اس کی نظر ہر پہلو پر ہونی چاہئے وہ صرف نقص کو نکالنے کی کوشش کرے یہ نہ ہوکہ جوش میں آکر کسی نقص کی وجہ سے وہ اس کام کو ہی بند کرائے اور اس طرح اس کام کے سلسلہ میں جو نیکیاں اور بھلائیاں معرض وجود میں آرہی ہیں وہ بھی رک جائیں ۔جو شخص یہ طریقہ استعمال کرے اس کو مصلح کہنا کہاں تک درست ہے وہ تو معطل اور مانع ہے۔ مولوی اشرف علی صاحب جبکہ وہ فارغ التحصیل ہوگئے اور کانپور میں مدرس بھی ہوگئے سالہا سال تک محفل مبارک میلاد شریف منعقد کرتے رہے قیام بھی کرتے تھے بعد میں ان کو اس کار خیر خرابی نظر آنے لگی اب ان کو چاہئے تھا کہ وہ صرف اس خرابی کو رفع کرتے اور میلاد شریف کی محفل صحیح طریقہ پر منعقد کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے لیکن انہوں نے کیا کیا سب کو معلوم ہے ‘‘۔ (بزم خیر از زید ،ص۱۳۲،۱۳۳،شاہ ابو الخیر اکاڈمی دہلی) ابو زوہیب محمد ظفر علی سیالوی بریلوی حضرت تھانوی کے رجوع کے متعلق لکھتے ہیں: ’’لیکن بعد میں تھانوی صاحب نے اپنا نظریہ تبدیل کرلیا۔اور بقول ان کے اپنے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب حضرات صوفیاء کرام اور حضرت مولانا روم کا موقف ان پر غلط نظر آیا‘‘۔ (حقائق میلاد النبی ﷺ ،ص۱۲۱) نوٹ:بریلوی نباض قوم مولانا ابو داود صادق صاحب کے رسالہ میں ہے : ’’شیخ الاسلام ابو الحسن زید فاروقی مجددی دہلوی ‘‘۔ (رضائے مصطفیٰﷺ،ص۳۱ بابت رمضان و شوال ۱۴۱۴؁ھ) خلیل رانا جہانیاں منڈی مولانا ابو الحسن زید فاروقی صاحب کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ان کی شخصیت میں جانبداری شمہ برابر نہ تھی اور ان کی کتب کا جنہوں نے مطالعہ کیا ہے وہ بالضرور اس بات کی تائید کریں گے کہ ان کی تحریروں میں جانبداری اور تحقیق و انصاف جیسے اصولوں کی پیروی جگہ جگہ ملے گی اس لیے آپ پر کسی طرف جھکاؤ کا الزام نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ (معارف رضاکراچی: سالنامہ ۲۰۰۶؁ء؍ص۱۵۷ کا میلاد طالب دعا ساجد خان نقشبندی

August 11, 2026 213