احقر بقسم کہتا ہے کہ میرے قلب میں نہ تو اس عمل کی محبت ہے نہ اس کے… — Scholars Of Kashmir - Ahlus Sunnah Media Forum — TG.ME

’’احقر بقسم کہتا ہے کہ میرے قلب میں نہ تو اس عمل کی محبت ہے نہ اس کے ساتھ شغف بلکہ میں خود اس کے ترک کو افضل و اولی سمجھتا ہوں ‘‘۔ (تذکرۃ الرشید ،ج۱،ص۱۲۹) ایسی صاف صراحت کے بعد بھی اہل بدعت کا حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ کو اپنا ہم نوا سمجھنا دن کو رات ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ مگر حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ سے طویل خط و کتابت کے بعد جب ان پر یہ صورت واضح ہوئی کہ ان مجالس میں بھی شرکت مناسب نہیں تو خود اعلان کردیا کہ اب میں ان مجالس میں کبھی شرکت نہیں کروں گا۔آپ کے الفاظ یہ ہیں : ’’حضرت عالی کے ارشادات سے اس عمل کے جو مفاسد علمیہ و عملیہ عوام میں غالب ہیں پیش نظر ہوگئے اور ارادہ کرلیا کہ ہرگز ایسی مجالس میں شرکت نہ ہوگی ‘‘۔ (تذکرۃ الرشید ،ج۱،ص۱۳۵) حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ اپنے مرشد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ کے اس رجوع کو نقل کرتے ہوئے ان کا ملفوظ نقل کرتے ہیں: ’’فرمایا کہ اس کے متعلق پہلے میرا خیال یہ تھا کہ اس محفل کا اصل کام ذکرِ رسول اللہ ﷺ تو سب کے نزدیک خیر و سعادت اور مستحب ہی ہے ۔ البتہ اس میں جو منکرات اور غلط رسمیں شامل کردی گئی ہیں ان کے ازالہ کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اصل امر محفل مستحب کو ترک نہیں کرنا چاہیے اور یہ دراصل ہمارے حضرت حاجی صاحب قدس سرہ (یعنی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ) کا مسلک تھا ۔ حضرت کی غایت شفقت و عنایت اور محبت کے سبب میرا بھی ذوق یہی تھا اور یہی عام طور پر صوفیاء کرام کا مسلک ہے ، حضرت مولانا رومی بھی اسی کے قائل ہیں ۔ انہوں نے فرمایا: بہرے کیکے تو گلیمے را مسوز لیکن ہمارے فقہاء حنفیہ کا مسلک ان معاملات میں یہ ہے کہ جو مباح یا مستحب مقاصدِ شرعیہ میں سے ہو اس کے ساتھ تو یہی معاملہ کرنا چاہیے کہ اگر اس میں کچھ منکرات شامل ہوجائیں تو منکرات کے ازالہ کی فکر کی جائے اصل کام کو نہ چھوڑا جائے ۔ مثلاً مسجدوں کی جماعت میں کچھ منکرات شامل ہوجائیں تو اس کی وجہ سے جماعت چھوڑ دینا جائز نہیں ہوگا بلکہ منکرات کے ازالہ کی کوشش مقدور بھر واجب ہوگی۔ اسی طرح اذان ، تعلیمِ قرآن وغیرہ کا معاملہ ہے کہ وہ مقاصد شرعیہ میں سے ہیں اگر ان میں کچھ منکرات شامل ہوجاویں تو ازالہ منکرات کی کوشش کی جاوے گی اصل کام کو نہ چھوڑا جائے گا ۔ لیکن جو مستحبات ایسے ہیں کہ اصل مقاصد شرعیہ ان پر موقوف نہیں اگر ان میں کچھ منکرات و بدعات شامل ہوجاویں تو ایسے مستحبات ہی کو ترک کردینا چاہیے مثلا زیارت قبور،ذکر رسول کے لیے کسی محفل و مجلس کا انعقاد کہ اس پر کوئی مقصد شرعی موقوف نہیں وہ بغیر اس مجلس اور خاص صورت کے بھی پورے ہوسکتے ہیں۔ اگر ان میں منکرات و بدعات شامل ہوجاویں تو یہاں ایسی مجالس اور ایسے اجتماعات ہی کو ترک کردینا لازم ہوجاتا ہے۔ جس درخت کے نیچے رسول اللہﷺ کا بیعت لینا، اس پر اللّٰہ تعالیٰ کی رضا قرآن مجید میں مذکور ہے ، جب اس درخت کے نیچے لوگوں کا اجتماع اور بعض منکرات کا خطرہ حضرت عمر فاروق اعظم ؄ نے محسوس فرمایا تو درخت ہی کو کٹوا دیا، حالانکہ اس کے نیچے جمع ہونے والے حضرات صحابہ کوئی ناجائز کام نہ کرتے تھے ۔ محض تبرکاً جمع ہوتے اور ذکر اللّٰہ و ذکرِ رسولﷺہی میں مشغول رہتے تھے چونکہ ایسا اجتماع مقصودِ شرعی نہیں تھا اور آئندہ اس میں شرک و بدعت کا خطرہ تھا اس لیے اس اجتماع ہی کو ختم کر دیا گیا ۔ اس طرح کے اور بھی متعدد واقعات حضرت فاروق اعظم؄ اور دوسرے حضرات صحابہ ؇ سے بکثرت منقول ہیں ، کتاب الاعتصام میں وہ مستند کتابوں کے حوالے سے نقل کئے گئے ہیں۔ ان احادیث و آثار کی بناء پر فقہاء حنفیہ کا مسلک ایسے معاملات میں یہی ہے کہ جو امر اپنی ذات میں مستحب ہو مگر مقصودِ شرعی نہ ہو ، اگر اس میں منکرات و بدعات شامل ہو جائیں یا شامل ہونے کا خطرہ قوی ہو تو ایسے مستحبات کو سرے سے ترک کر دیا جائے لیکن جو امرِ مستحب مقاصدِ شرعیہ میں سے ہو یا اس پر کوئی مقصدِ شرعی موقوف ہو تو اس کو شمولِ منکرات کی وجہ سے ترک نہ کیا جائے بلکہ ازالہ منکرات کی کوشش کرنا چاہیے۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ اسی مسلکِ حنفی کے پابند تھے اس لیے مروجہ محفل میلاد جو بہت سے منکرات و بدعات پر مشتمل ہوگئی ہے اس میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے کچھ زمانے تک اس مسئلہ میں حضرت گنگوہی  سے بھی میرا اختلاف رہا مگر بالآخر دلائل کی قوت اور دین کی حفاظت کے پیش نظر یہی مسلک احوط اور اسلم نظر آیا اسی کو اختیار کرلیا‘‘۔ (مجالس حکیم الامت ، ص۱۶۰ تا۱۶۲،طبع دارالاشاعت) ’’خطبات حکیم الامت جلد پنجم‘‘ میں قرآن و حدیث ،اجماع و قیاس سے آپ کا عید میلاد النبی ﷺ کے حرام ہونے پر پورا بیان موجود ہے جس میں ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:

August 11, 2026 119