حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے ملفوظ کا مقصد بھی یہی ہےکہ میلاد ہے تو بدعت لیکن کسی جگہ ایسی نادرصورتحال پیش آجائے جیسے انگریز کے زمانے کے کالج، کے وہاں دین کی بات سننے کا صرف ایک موقع میلاد کے جلسہ کی صورت میں پیش آتاتھاوہاں اس کی اجازت اھون البلیتین کی صورت میں دی جاسکتی ہے ۔لیکن اب خصوصا پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ۔ سینکڑوں جائز صورتیں دین کی بات سننے اور سمجھنے کیلئے موجود ہیں۔ لہذا اب اس قسم کی خرافات کی بالکل بھی اجازت نہیں دی جائےگی۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے محافل میلاد سے رجوع کرلیا تھا پھرمیلاد کے متعلق اس قسم کے ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے اس زمانے کے ہیں جب کانپور میں تدریس کے دوران صرف میلاد کے جلسہ کی صورت ہی میں دین کی بات کرنے کا موقع میسر آتاہے۔اور وہ بھی صرف نام کا میلاد کا جلسہ ہوتا جیسا کہ آج کل ہمارے دیار میں سیرت کے جلسے اس میں مروجہ قسم کی کوئی خرافات شامل نہ تھیں۔ لیکن جب ترجمان دیوبند فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے اس حوالے سے آپ کی خط و کتاب ہوئی تو آپ نے کلیۃً محافل میلاد کو ترک فرمادیا۔ہم قارئین کیلئے اس خط و کتابت کے چیدہ چیدہ مقامات کو یہاں نقل کررہے ہیں ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ صاحب فرماتے ہیں: ’’امر اول شرکت بعض مجالس کی الحمدللہ مجھ کو نہ غلو و افراط ہے نہ اس کو موجب قربت سمجھتا ہوں مگر توسع کسی قدر ضرور ہے۔اور منشاء اس توسع کا حضرت قبلہ و کعبہ کا قول و فعل ہے مگر اس کو حجت شرعیہ نہیں سمجھتا بعد ارشاد اعلیٰ حضرت کہ خود بھی میں نے جہاں تک غور کیا اپنے فہم ناقص کے موافق یوں سمجھ میں آیا کہ اصل عمل تو محل کلام نہیں ‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۱،ص ۱۱۶) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ محافل میلاد کو موجب قربت نہ سمجھتے ہاں جواز کی حد تک اس کے قائل تھے وہ بھی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کے مشورے پر، اور چونکہ کانپور میں لوگ میلاد ہی کے جلسہ کی صورت میں وعظ میں جمع ہوتے اس لئے انہوں نے جواز کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔آگے ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’نہ کسی دن ان اعمال کی (یعنی میلاد کی ) وقعت ذہن میں آئی نہ خود رغبت ہوئی اور نہ اوروں کو ترغیب دی بلکہ اگر کبھی اس قسم کا تذکرہ آیا تو یہی کہا گیا کہ اول یہی ہے کہ خلافیات سے بالکل اجتناب کیا جائے مگر جس جگہ میرا قیام ہے وہاں ان مجالس کی کثرت تھی اور بے شک ان لوگوں کا غلو بھی تھا چنانچہ ابتدائی حالت اس انکار پر میرے ساتھ بھی لوگوں نے مخالفت کی مگر میں نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی تین چار ماہ گزرے تھے کہ حجاز کا اول سفر ہوا تو حضرت قبلہ نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ اس قدر تشدد مناسب نہیں جہاں ہوتا ہو انکار نہ کرو جہاں نہ ہوتا ہو ایجاد نہ کرو اور اس کے بعد جب میں ہندو ستان کو واپس آیا تو طلب کرنے پر شریک ہونے لگا اور یہ عزم رکھا کہ ان لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاوے چنانچہ مختلف مواقع و مجالس میں ہمیشہ اس کے متعلق گفتگو کرتا رہا اور جتنے امور اصل عمل سے زائد تھے سب کا غیر ضروری ہونا اور ان کی ضرورت کے اعتقاد کا بدعت ہونا صاف صاف بیان کرتا رہا‘‘۔ (تذکرۃ الرشید،ج۱،ص ۱۱۷) آگے حضرت مجدد تھانوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : ’’فیصدی نوے موقع پر عذر کردیا اور دس جگہ شرکت کرلی اور شرکت بھی اس نظریہ سے کہ ان لوگوں کو ہدایت ہوگی اور یوں خیال ہوتا ہے کہ اگر خود ایک مکروہ کے ارتکاب سے دوسرے مسلمانوں کے فرائض و واجبات کی حفاظت ہو تو اللہ تعالیٰ سے امید تسامح ہے بہرحال وہاں بدوں شرکت قیام کرنا قریب بمحال دیکھا اور منظور تھا وہاں رہنا کیونکہ دنیوی منفعت بھی ہے کہ مدرسے سے تنخواہ ملتی ہے اور بفضلہ تعالیٰ وعظ وغیرہ کے بعد تو لینے کی مطلقاً میری عادت نہیں‘‘ ۔ (تذکرۃ الرشید،ج۱،ص۱۱۸) معلوم ہوا کہ حتی الامکان ان مجالس میں شرکت سے پرہیز کرتے،لیکن جہاں دیکھتے کہ سود خور ، فاسق و فاجر بریلویوں کی اصلاح کا کوئی اور ذریعہ بدون مجلس میں شرکت کے نہیں تو شریک ہوجاتے۔ان مجالس میں شرکت کی وجہ حضر ت کے وعظ سے کئی سود خوروں فاسقوں کا صالح نمازی بن جانا تھا ۔جب دیکھا کہ یہاں کے لو گ نماز کے لیےاتنے حاضر نہیں ہوتے جتنے ان محافل میں لہٰذا ایسی محافل جو منکرات سے بالکل خالی تھیںمیں شرکت کے لیے چلے جاتےاور وہاں نماز، روزے اور اصلاح نفس کی تلقین کرتے۔ حضرت رحمۃ اللہ نے صاف طور پر فرمایا کہ وعظ پر کچھ لینے دینے کی میری عادت نہیں ۔جس وقت اس کے جواز کے قائل تھے اس وقت بھی ان محافل کے متعلق حضرت تھانوی کا یہ نظریہ تھاکہ :
حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے ملفوظ… — Scholars Of Kashmir - Ahlus Sunnah Media Forum — TG.ME
August 11, 2026 94