((حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ کالج میں میلاد جائز ہے )) یہ جواب بندہ کی غیر مطبوعہ کتاب "جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ" سے ماخوذ ہے ساجد خان نقشبندی {دلیل نمبر۱۷:} بدعت بعض اوقات واجب حضرت تھانوی رحمۃ{دلیل نمبر۱۷:} بدعت بعض اوقات واجب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا میلاد فریق مخالف سوشل میڈیا پر حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا یہ ملفوظ بھی پیش کرتے ہیں کہ: ’’اگر کسی جگہ بدعت ہی لوگوں کے دین کی حفاظت کا ذریعہ ہو جائے تو وہاں اس بدعت کو غنیمت سمجھنا چاہئے جب تک ان کی پوری اصلاح نہ ہوجاوے جیسے مولود شریف اور جگہ تو بدعت ہے مگر کالج میں جائز بلکہ واجب کیونکہ اس بہانہ سے وہ کبھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف اور آپ کے فضائل و معجزات تو سن لیتے ہیں تو اچھا ہے اسی طرح حضور ﷺ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں قائم ہے‘‘۔ (ملفوظات حکیم الامت حصہ اول ،ص۳۲۶) اسی طرح امام اہلسنت رحمہ اللہ کا یہ قول پیش کیا گیا کہ: ’’تو مومن کا ایمان بچانے کیلئے مباح و مستحب کیوں واجب نہیں ہوسکتا ‘‘۔ (الکلام المفید ،ص۳۱۹) پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک میلادی لکھتا ہے : ’’فی زمانہ بھی یہ کیفیت عام ہے بدمذہبیت لادینیت قادیانیت عام ہے لہذا اس اصول سے فی زماننا میلاد جیسا مستحب عمل واجب ٹھرا اس کو ترک ہرگز نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ (ملخصا ذکر میلاد النبی ﷺ ،ص۳۵۲تا۳۵۵) جواب : فریق مخالف نے ہمیشہ کی طرح یہاں پر بھی دجل و فریب کیا۔ اول تو امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’اس لئے کہ ترک تقلید کے قدرے مفصل مفاسد آپ باقرار فریق ثانی پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ترک تقلید سے کفر ،الحاد اور زندقہ لازم آیا اور آتا ہے اگر کسی کے ایمان اور اسلام کو محفوظ رکھنے کیلئے امر مباح اور مستحب پر اصرار کیا جائے تو اس میں شرعا کیا قباحت ہے جبکہ اس کا ایمان اور اسلام اسی صورت ہی میں بچ سکتا ہو؟کون مسلمان نہیں جانتا کہ اسلام میں جھوٹ ایک بڑا گناہ ہے لعنۃ اللہ علی الکاذبین قرآن کریم میں وارد ہے اور قرآن و حدیث کی تصریحات سے جھوٹ کی برائی عیاں اور ظاہر ہے مگر بعض اوقات جھوٹ بولنا بھی صرف جائز نہیں بلکہ واجب ہوجاتا ہے ‘‘۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید ،ص۳۱۹) امام اہلسنت رحمہ اللہ یہاں الزاما گفتگو کررہے ہیں کہ فریق مخالف نے یہ اعتراض قائم کیا کہ تقلید مستحب ہے اور مستحب پر التزام بدعت ہے تو: اولا:امام اہلسنت رحمہ اللہ نے اس کا جواب دیا کہ تقلید خود فریق مخالف کے ہاں بھی بعض صورتوںمیں واجب ہے مستحب نہیں، اور وجوب پر التزام شرعا مطلوب ہے۔ ثانیا: اگر ہم مستحب مان بھی لیں تو خود اہلحدیث عالم نے ترک تقلید کے نقصانات تسلیم کئے ہیں کہ لوگ ترک تقلید کی وجہ سے بے دین و مرتد ہورہے ہیں معاذاللہ تو اگر یہ تقلید باوجود مستحب ہونے کے کسی مسلمان کا ایمان بچالے تو اس پر اصرار کیوں گناہ ہوگا؟یہ بات بالکل قاعدے و ضابطے کے مطابق ہے۔ واقعۃ جہاں کوئی مستحب ہی کسی کے ایمان کو بچانے کاذریعہ ہو وہاں اس مستحب پر وجوب کی طرح عمل کیا جائے۔ ایمان تو بہت بڑی چیز ہے اللہ نے تو انسان کی جان بچانے کیلئے خنزیر و شراب جیسی حرام چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے۔لیکن اس خاص صورت پر مروجہ بدعی میلاد کو قیاس کرنا نری جہالت ہے۔ کیونکہ کسی مسلمان کا ایمان و دین میلاد پر موقوف نہیں ،بلکہ یہ بدعی میلاد یہود و ہنود قادیانی و نصاری کیلئے مسلمانوں کو بے دین کرنے کاآسان راستہ ہے۔ معاذاللہ ۔وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو بے ایمان کررہے ہیں ۔خود فریق مخالف کے علماءیہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ہمارا یہ میلادی جلسے دیکھ کر لوگ دین سے متنفر ہورہے ہیں ماقبل میں میلاد کی خرافات کے ذکر میں اس قسم کے حوالے گزرچکے ہیں کہ: ’’راقم الحروف ذاتی طور پر ایسے کئی افراد کو جانتا ہے جو پہلے راسخ العقیدہ سنی مسلمان تھے لیکن اب یا تو گمراہ یا پھر ڈھلمل یقین ہوچکے گویا ہم اپنے ہی ہاتھوں صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اغیار کی طرف بھیجنے کا سامان کررہے ہیں ‘‘۔ (عید میلاد النبی ﷺ اور چند اصلاح طلب پہلو،ص۲۳) اس میلاد کی خرافات ماقبل میں بہت تفصیل سے گزرچکی ہیں۔ لہذا یہ مروجہ محافل لوگوں کے ایمان و دین بچانے کاذریعہ نہیں بلکہ معاذاللہ دین کو برباد کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں اس کو فی الفور ختم کیا جائےگا۔ پھر مستحب جب ایمان بچانے کا ذریعہ بنے تو واجب ہوتا ہے مروجہ میلاد مستحب نہیں بلکہ ’’بدعت سیئہ قبیحہ مردودہ‘‘ ہے۔ اس کا ترک واجب ہے یہ تو خود ایمان کو برباد کرنے والی ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ کالج میں میلاد جائز ہے )) یہ جواب… — Scholars Of Kashmir - Ahlus Sunnah Media Forum — TG.ME
August 11, 2026 114