جب استاذ نے اپنے شاگرد کو ’’استاذ‘‘ کہا
آج (12 ربیع الاول 1448ھ) بعد نمازِ فجر ایک اصلاحی مجلس کے موقع پر ایک مرکزی ادارے کے جلیل القدر استاذِ حدیث اور نائب صدر مفتی کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا، مجلس میں ان کے بعضے شاگرد بھی ملاقات کے لیے حاضر ہوئے، دورانِ گفتگو اس استاذ نے حاضرین کے سامنے اپنے ایک شاگرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "یہ میرے استاذ ہیں" یہ جملہ سن کر کافی تعجب ہوا، دل میں کئی سوالات بھی آئے کہ ایک جلیل القدر استاذ اپنے شاگرد کو "میرا استاذ" کیوں کہہ رہے ہیں؟ لیکن کچھ ہی دیر بعد اس جملے کی حقیقت اور اس کے پیچھے چھپی ہوئی حکمت واضح ہوگئی۔
وہ استاذ حدیث فرمانے لگے:
"آج کا زمانہ بدل چکا ہے، اساتذہ اپنے شاگردوں کو پہلے زمانے کے طلبہ کی طرح نہ سمجھیں، اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے، آج کے طلبہ میں وہ اوصاف کم ہوگئے ہیں جو پہلے زمانے کے طلبہ میں ہوا کرتے تھے، استاذ اور شاگرد کے درمیان وہ دلی تعلق بھی باقی نہیں رہا، اس لیے میں اساتذہ سے کہتا ہوں کہ اب اپنے شاگردوں کو اپنا دوست سمجھو، ہر معاملہ محبت اور شفقت سے طے کرو، صرف استاذ ہونے کے زعم میں سختی اور رعب کو اپنا طریقۂ تربیت نہ بناؤ۔"
پھر اسی سلسلے میں انہوں نے اپنے علاقے کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک استاذ نے چند طلبہ کو سزا دی، بعد میں انہی طلبہ نے اس استاذ کو قتل کردیا، واقعہ سنانے کے بعد وہ بزرگ استاذ مسکرائے اور اپنے اسی شاگرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اسی لیے میں نے انہیں اپنا استاذ کہا۔" یہ جملہ بظاہر مختصر تھا، لیکن اس کے اندر موجودہ دور کے اساتذہ کے لیے تربیت کا ایک پورا سبق پوشیدہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے، اس لیے تربیت کے اسلوب پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ استاذ کی عظمت ختم ہوگئی، ادب و احترام کی اہمیت باقی نہیں رہی، یا طلبہ کو بے لگام چھوڑ دیا جائے، ہرگز نہیں! استاذ، استاذ ہی رہتا ہے اور شاگرد کو اپنے استاذ کا ادب کرنا چاہیے۔ لیکن تربیت صرف رعب، ڈانٹ، سختی اور سزا کا نام نہیں؛ تربیت کا اصل حسن حکمت، محبت، شفقت، حسنِ اخلاق اور دل جیتنے میں ہے۔
آج کا طالب علم اگر یہ محسوس کرے کہ اس کا استاذ صرف اس کی غلطیاں پکڑنے والا نہیں، بلکہ اس کا خیرخواہ، ہمدرد اور حقیقی مربی ہے، تو وہ اپنے استاذ کی بات زیادہ دل سے قبول کرے گا، لیکن اگر ہر وقت تحقیر، سخت لہجہ، سب کے سامنے بے عزتی اور غیر ضروری سزا کا ماحول ہو تو ممکن ہے کہ طالب علم بظاہر خاموش رہے، مگر اس کے دل میں نفرت اور دوری پیدا ہوجائے۔
آج کا دور عزتِ نفس کا دور ہے، معاشرے کا کمزور سے کمزور فرد بھی اپنی تحقیر اور تذلیل برداشت نہیں کرنا چاہتا، تو پھر ایک طالب علم، جو علمِ دین حاصل کرنے کے لیے مدرسے میں آیا ہے، اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا کس طرح مفید ہوسکتا ہے؟
لہٰذا موجودہ دور کے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے مقام و مرتبے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے تربیتی اسلوب پر نظرِ ثانی کریں، انہیں صرف قابو کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ان کے دل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
یکے از بندگان خدا
محمد ایاز
عفا اللّٰه عنه و سدد خطاہ
12 ربیع الاول 1448ھ
26 اگست 2026ء
August 26, 2026 95