📖Islamic Library (English)📖: post #1204 — TG.ME

Forwarded fromABAbode of Wisdom

✅”A person came to Imām Husayn (peace be with him) and said: ’Sit [with me] so that we can debate with each other regarding the religion.’ 🔹The Imam said to him in reply, ‘O person! I am informed of my religion and the guidance is unveiled for me. If you are ignorant about the religion, then go and seek it. What have I to do with pretense and hypocrisy? Indeed, Satan tempts and whispers to man, saying, 'Debate and argue with people so that they do not assume you are incapable and ignorant. 🔸'Therefore, disputing and pretense (show off something false as true) is confined to one of these four forms: 📍Either you and your companion dispute through pretense over a matter whose reality is known to both of you, then certainly through this action you have forsaken sympathy and concern, sought disgrace, and wasted knowledge; 📍or you both are ignorant of it, then, in this case, you have disclosed your ignorance and you quarrel with each other out of ignorance; 📍or you know the reality of the matter [and he is ignorant], then, in this case, you have oppressed your companion by looking for his mistake; 📍or your companion knows the reality of the matter [and you do not], then you have not accorded him respect and you have not preserved his esteem. 🔹All of these shouldn’t happen. Therefore, one who is impartial accepts the truth and abandons pretense and hypocrisy, then [such a person] has truly made his faith firm.’” ✅ أن رجلا قال للحسين بن علي بن أبي طالب عليهم السلام: اجلس حتى نتناظر في الدين. فقال: يا هذا أنا بصير بديني مكشوف علي هداي، فإن كنت جاهلا بدينك فاذهب فاطلبه، مالي وللمماراة ؟ وإن الشيطان ليوسوس للرجل ويناجيه ويقول: ناظر الناس لئلا يظنوا بك العجز والجهل. ثم المراء لا يخلو من أربعة أوجه: 📍إما أن تتمارى أنت وصاحبك فيما تعلمان، فقد تركتما بذلك النصيحة، وطلبتما الفضيحة، وأضعتما ذلك العلم، 📍أو تجهلانه، فأظهرتما جهلا وخاصمتما جهلا، 📍وإما تعلمه أنت فظلمت صاحبك بطلب عثرته، 📍أو يعلمه صاحبك فتركت حرمته، ولم تنزله منزلته. وهذا كله محال ، 🔹 فمن أنصف وقبل الحق وترك المماراة، فقد أوثق إيمانه 📚منية المريد، الشهيد الثاني، ص ١٧١ ✅ “ایک شخص نے امام حسین سلام اللہ علیہ کے پاس آ کر امام سے کہا: ‘بیٹھو تاکہ ہم دین کے بارے میں بحث و مناظرہ کریں۔’ 🔹 امام نے جواباً فرمایا: ‘اے شخص! مجھے اپنے دین کی سمجھ اور علم ہے اور ہدایت (بھی) میرے لیے آشکار ہے۔ اگر تم دین کے بارے میں جاہل ہو تو جائو اور جا کر سیکھو۔ میرا مناظرہ اور ریاکاری سے کیا کام؟ اور یہ شیطان ہے جو وسوسہ کرتا ہے اور انسان سے کہتا ہے، ‘لوگوں سے بحث اور مناظرہ کرو تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ تم نالائق اور جاھل ہو۔ ’چنانچہ جدل بحث اور رياكاري کرنے کی چار میں سے ایک وجہ ضرور ہوتی ہے: 📍 اب یا تم اور تمہارا ساتھی کسی ایسے موضوع پر بحث و مناظرہ کریں جس کی حقیقت تم دونوں کو معلوم ہے تو پھر یقینی طور پر تم نے خیر و نصیحت کی راہ کو چھوڑ کر بدنامی کو طلب کیا اور اُس علم کو برباد کیا ہے۔ 📍 یا تم دونوں اس موضوع سے جاھل ہو، پھر اس صورت میں تم نے اپنی اپنی جہالت کو ظاہر کیا اور تم دونوں جہالت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جھگڑتے رہے۔ 📍 یا صرف تم ہی موضوع کا علم رکھتے ہو (جبکہ تمہارا ساتھی نا آشنا ہے)، اس صورت میں تم نے اپنے ساتھی کی غلطی کو تلاش کرکے اور اس کی غلطی کا احساس کرا کے اس پر ظلم کیا ہے۔ 📍 یا تمہارا ساتھی صحیح بات سے آگاہ ہے (جبکہ تم نہیں)، اس صورت میں تم نے اس کی بے حُرمتی کی ہے (اس کا احترام نہ کر کے)۔ جو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ 🔹 پھر جس نے انصاف کے ساتھ حق کو قبول کر لیا اور ریاکاری و دکھاوے کو چھوڑ دیا اس نے اپنے با ایمان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔’” @AbodeofWisdom

June 17, 2026 384